جیون اسپتال بند، سہارا اسپتال کووڈ سینٹر کے لئے جاری، اب تک 6 مریض بغرض علاج داخل

جیون اسپتال بند، سہارا اسپتال کووڈ سینٹر کے لئے جاری، اب تک 6 مریض بغرض علاج داخل

کورونا بحران کے چلتے شہر کا سب سے بڑا کووِڈ سینٹرجیون اسپتال کے متعلق شہر کی عوام میں شکوک و شبہات اور انجانے خوف بڑھتے ہی جارہے تھے اس کے علاوہ یہاں پر روزانہ شکایتیں موصول ہورہی تھیں کہ انتظامات انتظامیہ کی جانب سے درست نہیںہیں ۔ عوام میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے گزشتہ 6 مئی کومطالبہ کیا تھا کہ جیون اسپتال کو بند کرتے ہوئے اُس کے متبادل سہارا اور نیپچون اسپتال کو فوری طور پر شروع کیا جائے ۔ اس طرح کا ایک مطالبہ میونسپل کمشنر ، ضلع کلکٹر اور ریاستی حکومت کے محکمہ ہیلتھ اور راجیش ٹوپے سے کیا تھا۔ اس ضمن میں حکومت نے کورونا سینٹرجیون اسپتال کو بند کرتے ہوئے سہارا اسپتال کو فوری جاری کردیا ہے ۔اس سلسلہ میں گزشتہ دو روز قبل شہر کی میئر طاہرہ شیخ رشید ، اسسٹنٹ کمشنر نتن کاپڑنیس اور سہارا اسپتال کے چیئرمن عبدالطیف انور نے اسپتال کا دورہ کیا اور کارپوریشن نے اپنے تابع میں اسپتال کو لیا ۔ آج جمعرات کو یہ اسپتال کارپوریشن کی مکمل نگرانی میں آچکا ہے ۔ اس اسپتال میں انچارج کےطور پر ڈاکٹر زاہد ربانی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں نمائندہ نے اُن سے تفصیلات طلب کیں تو موصوف نے بتایا کہ جمعرات کی شب 11:30 بجے تک چھ کورونا کے مریضوں کو داخل علاج کیا گیا ہے ۔ یہاںپر شہر کے مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کے ڈاکٹر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ وہیں اس سلسلے میں آصف شیخ نے نمائندہ بیباک کو فون کر کے تفصیلات دی اور کہاکہ وزیر دادا بھوسے ،چھگن بھجبل ،کمشنر ،ڈپٹی کمشنر کے تعاون اور جدوجہد سے ہمارے مطالبہ کو ریاستی حکومت نے منظور کیا اور سہارا اسپتال کو کورونا سینٹر بنانے عوام کی خدمات کے لئےوقف کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جیون اسپتال سے زیادہ بہتر سہولیات اور بلاخوف و خطر پُر سکون اور قلب شہر میں مریضوں کا اطمینان بخش علاج ہوگا ۔ عوام علاج کے ساتھ ساتھ احتیاط بھی کریں ۔ آصف شیخ نے طاہرہ شیخ رشید اور میونسپل کمشنر و ہیلتھ محکمہ کا اور سہارا ٹرسٹ کے ساتھ ساتھ اسپتال میں خدمات انجام دے رہے ڈاکٹرس کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے ۔

mlgheadlines

mlgheadlines

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: